یہاں ملک کے پاس موجود بٹ کوائنز کی تعداد ڈچ محقق ایلیاس کے ٹویٹس سے جمع کی گئی ہے جو اس پورٹ فولیو پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ چلاتے ہیں۔ ایل سیلواڈور میں اس بات کا عوامی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا کہ کتنے سکے اور کس قیمت پر خریدے گئے۔
لیکن اب بھی بِٹ کوائن کے ساتھ استعمال ہونے والی متعدد اصطلاحات جیسے کہ بلاک چینز، والٹس اور ای ٹی ایف وغیرہ بہت سارے لوگوں کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی ہیں اور انھیں یہ اصلاحات آسانی سے سمجھ میں نہیں آتیں۔
اس لیے حقیقی اعداد و شمار بہت زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ فرم نے اس حوالے سے بی بی سی کی ای میل کا جواب نہیں دیا۔
میرے خیال میں بینک آف انگلینڈ کے گورنر ہر رات سونے سے پہلے، پیسے کی ریل پیل کے لیے ایک معمولی سی دعا ضرور کرتے ہوں گے۔
طلبہ اور ان کے سرپرستوں کے لیے ضروری ہدایات اور قواعد وضوابط
گاڑی میں ٹوائلٹ سیٹ: کیا چینی کمپنی کار میں بیت الخلا نصب کرنے جا رہی ہے؟
اگرچہ کرپٹو کرنسیوں کو غیر مرکزی (ڈی سینٹرالائزڈ) کرنسی بتایا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ 'فی ایٹ' کرنسی سے بھی زیادہ سینٹرالائزڈ ہے- شخصی رازداری آزادی کا سب سے اہم ستون ہوتا ہے۔ ہر مطلق العنان پرائیویسی کو ختم کرتا ہے۔
امریکہ-ایران مذاکرات کا امکان: اسلام آباد کا فائیو سٹار ہوٹل حکومتی تحویل میں، جڑواں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ اور بھاری ٹریفک معطل
میرے بارے میں مشہور ہے کہ میں عظیم فن کو دیکھ کر لطف میکہ کوائن اندوز ہوتا ہوں، جیسے کوئی ہرہنہ خاتون کی پینٹنگ یا کوئی ایسی پینٹنگ جس میں خاتون کو کپڑے پہنائے گئے ہوں۔ یا فرانس میں وان گو کی بنائی پینٹنگ۔
یہ بطور مثال بٹ کوائن کی ٹرانزیکشن کا طریقہ کار مختصراً ذکر کیا گیا۔ اس میں ایک احتمال باقی ہے وہ یہ کہ کیا حسن واقعتا اس بٹ کوائن کا مالک تھا بھی یا اس نے جعل سازی کے تحت یہ کوائن فرضی طور پر بنا رکھا تھا ؟ عام زندگی میں اس سوال کا جواب کوئی ادارہ یا بینک وغیرہ دیتے ہیں جس کے تحت وہ یہ ذمے داری لیتے ہیں کہ معاملہ ہر قسم کی بٹ کوائنز جعل سازی سے پاک ہے لیکن بٹ کوائن چونکہ ایک ڈی سینٹر لائیز ڈ ٹیکنالوجی پر قائم ہوتا ہے تو اس میں کوئی ادارہ یا بینک یہ کام نہیں کر سکتا۔ اس احتمال کو دور کرنے کے لیے تصدیق کا عمل بنایا گیا جس میں یہ احتمال دور کیا جاتا ہے کہ واقعتا حسن اس بٹ کوائن کا مالک تھا اور وہ اس میں کوئی دھوکہ دہی کا معاملہ نہیں کر رہا۔ ہم نے ذکر کیا کہ مختلف کرنسیوں میں یہ تصدیق کا عمل مختلف طریقوں سے ہوتا ہے۔ کچھ کرنسیوں میں سٹیکنگ“ کا عمل ہوتا ہے جبکہ بٹ کوائن میں یہ تصدیق کا عمل ” مائیننگ کے ذریعے ہوتا ہے۔
اس کے بارے میں ایک کتاب کے مصنف مارک ہنٹر کا کہنا ہے کہ سکوں کے ساتھ کیا ہوا، اس کے بارے میں اب بھی ابہام موجود ہے، لیکن یہ فرض کیا جاتا ہے کہ چوروں کی طرف سے اکثریت کو بازار میں فروخت کر دیا گیا ہے۔
ایتھیریم کو بِٹ کوائن کے بعد دنیا کی دوسری بڑی کرپٹو کرنسی کہا جاتا ہے جسے ایتھر ٹوکن کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ بھی بلاک چین کے ذریعے چلتی ہے۔
لبنان: یو این مشن پر حملے میں فرانسیسی اہلکار کی ہلاکت، میکخواں اور انتونیو گوتریس کی مذمت
انشورنس فراڈ: گاڑیوں پر حملہ کرنے والا ’ریچھ‘ انسان نکلا